رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
کلام: ضیاء جالندھری
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئےدرد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے
بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شامشاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے
تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ضیا جالندھری
مہمان شاعر: ضیاء جالندھری
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئےدرد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے
بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شامشاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے