غزل 7 اشعار

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

Rang baaten karen aur baaton se khushbu aae

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئےدرد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے

بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شامشاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے

ہم تری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگرراہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے

وہی لب تشنگی اپنی وہی ترغیب سرابدشت معلوم کی ہم آخری حد چھو آئے

مصلحت کوشئ احباب سے دم گھٹتا ہےکسی جانب سے کوئی نعرۂ یاہو آئے

سینے ویران ہوئے انجمن آباد رہیکتنے گل چہرہ گئے کتنے پری رو آئے

آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے تو ضیاؔجشن غم جاری ہوا آنکھوں میں آنسو آئے

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں