نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو
کلام: ضیاء جالندھری
نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہومری سانسوں کے تار الجھا گئی ہو
در و دیوار میں ہے اجنبیتمیں خود بھی کھو گیا تم کیا گئی ہو
تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ضیا جالندھری
مہمان شاعر: ضیاء جالندھری
نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہومری سانسوں کے تار الجھا گئی ہو
در و دیوار میں ہے اجنبیتمیں خود بھی کھو گیا تم کیا گئی ہو