خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچ
کلام: ضیاء جالندھری
خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچاپنے آپ میں سب سچے ہیں مسجد و دیر کے بیچ
لاگ ہو یا کہ لگن ہو دونوں ایک دیے کی لویںایک ہی روشنی لہراتی ہے پیار اور بیر کے بیچ
تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ضیا جالندھری
مہمان شاعر: ضیاء جالندھری
خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچاپنے آپ میں سب سچے ہیں مسجد و دیر کے بیچ
لاگ ہو یا کہ لگن ہو دونوں ایک دیے کی لویںایک ہی روشنی لہراتی ہے پیار اور بیر کے بیچ