غزل 6 اشعار

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا

Kashkol hai to la idhar aa kar laga sada

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدامیں پیاس بانٹتا ہوں ضرورت نہیں تو جا

میں شہر شہر خوابوں کی گٹھری لیے پھرابے دام تھا یہ مال پہ گاہک کوئی نہ تھا

پتھر پگھل کے ریت کے مانند نرم ہےدرد اتنی دیر ساتھ رہا راس آ گیا

سینوں میں اضطراب ہے گریہ ہوا میں ہےکیا وقت ہے کہ شور مچا ہے دعا دعا

ہمت ہے تو بلند کر آواز کا علمچپ بیٹھنے سے حل نہیں ہونے کا مسئلہ

واں شب گزیدہ سینوں کو سورج عطا ہوئےتم بھی وہاں گئے تھے ضیاؔ تم کو کیا ملا

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں