6 اشعار

جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں

Jalwon se mere hosh udane mein lage hain

جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں

«جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیںوہ پھر مجھے دیوانہ بنانے میں لگے ہیں

مر مر کے کئے جاتے ہیں ہم یاد انہیں یاںاور وہ ہمیں واں دل سے بھلانے میں لگے ہیں

وہ آئے کرے کون پذیرائی اب ان کیارماں تو یہاں دھوم مچانے میں لگے ہیں

پھر دشت طلب آج ہے بے باکی پہ مائلوہ دامن ناز اپنا چھڑانے میں لگے ہیں

میں ہوں کہ مٹا جاتا ہوں ہر بات پہ ان کیاور وہ ہیں کہ دل میرا دکھانے میں لگے ہیں

ساحرؔ جنہیں میں نے دیا محبوبی کا رتبہوہ نام و نشاں میرا مٹانے میں لگے ہیں

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں