11 اشعار

برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے

Barbaad-e-mohabbat ka bas itna fasana hai

برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے

«برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ ہے۔

برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہےرونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانہ ہے

کچھ کم نہ تھا ان کا غم اس پر غم ہستی بھیمر مر کے سہی لیکن یہ بوجھ اٹھانا ہے

کل مجھ کو تھا غم ان کا اب ان کو ہے غم میرااک وہ بھی زمانہ تھا اک یہ بھی زمانہ ہے

یکتائی و کثرت میں ہے فرق تو بس اتناسمٹے تو مرا دل ہے پھیلے تو زمانہ ہے

اللہ عجب شے ہے یہ جذب محبت بھیدیکھیں وہ کسی جانب دل میرا نشانہ ہے

چھایا ہوا ہر شے پر عالم ہے جوانی کاجوبن پہ ہے فصل گل مٹنے کا زمانہ ہے

اس دکھ بھری دنیا کی اوقات بس اتنی ہےدیکھو تو حقیقت ہے سمجھو تو فسانہ ہے

وہ دور ہوس کا تھا یہ دور محبت ہےجب غم کو بھلاتے تھے اب خود کو بھلانا ہے

باقی نہ کہیں دل میں رہ جائے کوئی ارماںتھوڑا سا بھٹک بھی لیں منزل پہ تو آنا ہے

تھے غالبؔ و مومنؔ بھی یکتائے جہاں لیکنوہ ان کا زمانہ تھا یہ میرا زمانہ ہے

دم لینے بھی دے ساحرؔ ظالم یہ غم دوراںبربادیٔ الفت پر دو اشک بہانا ہے

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں