14 اشعار

ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا

Hoon Azal Se Muntazir Baitha Hua

ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا

«ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوااک قیامت آپ کا وعدہ ہوا

وہ تو الزام جفا سے بچ گئےعشق میرا مفت میں رسوا ہوا

سارے طوفاں موج بن کر رہ گئےاشک غم قطرہ سے جب دریا ہوا

جب مٹے ارمان و حسرت سینکڑوںدرد دل میں تب کہیں پیدا ہوا

بات جو نظروں نے نظروں سے کہیدور تک اس بات کا چرچا ہوا

ان کو دیکھا تھا بس اتنا یاد ہےبے خودی میں جانے پھر کیا کیا ہوا

آپ کے دامن تلک پہنچے نہ آنچشعلۂ غم دل میں ہے بھڑکا ہوا

ایک تیرے روٹھنے سے ہے یہ حالجیسے ہو سارا جہاں روٹھا ہوا

عالم جوش جنوں میں بارہامجھ کو خود پر آپ کا دھوکا ہوا

میں تو خود ارمانوں سے بیزار تھاتم نے بھی ٹھکرا دیا تو کیا ہوا

میں ادھر غرق ندامت اور ادھربحر رحمت جوش میں آیا ہوا

تیری اس بخشش کو یا رب کیا کہوںدل دیا بھی مجھ کو تو ٹوٹا ہوا

ہے تصور میں بھی آنے سے حجاباک قیامت آپ کا پردا ہوا

شعر میرا سحر ہے ساحرؔ ہوں میںسر سے پا تک درد میں ڈوبا ہوا

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں