گلشن شیرازی کی آواز میں
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا
کلام: محمد رفیع سودا · محفل: جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا · 2026-02-01
«آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بناکچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دِل بنا
سرگرمِ نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیبمت آشیاں چمن میں مرے متّصِل بنا