مقرر

گلشن شیرازی

@FIRFIR512

32
پیش کردہ کلام
32
محفلوں میں شرکت
گلشن شیرازی کی آواز میں

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے

کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12

«جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھےہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے

تب کہیں جا کے اپنی مرضی کیپہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے Nalaan bhi hai jo lab pe liye iltemaas hai تنویر دانش
  2. 02 جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی Jabeen par khaak hai yeh kis ke dar ki مبارک عظیم آبادی
  3. 03 کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے Kyo'n kar na laaye rang gulistaan naye naye رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  4. 04 اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا Ashk mere hain magar dida-e-nam hai us ka باقر مہدی آواز میں دستیاب
  5. 05 ہم اہل خوف Hum Ahl-e-Khauf اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  6. 06 خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں Khaki paikar hai magar khak nasheenon se nahin راکب مختار آواز میں دستیاب
  7. 07 لب پہ پھر آئی ہے فریاد رسول عربی Lab pe phir aayi hai faryaad Rasool-e-Arabi بہزاد لکھنوی
  8. 08 ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے Tere baghair masaafat ka gham kahan kam hai اختر شمار آواز میں دستیاب