گلشن شیرازی کی آواز میں
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12
«جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھےہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے
تب کہیں جا کے اپنی مرضی کیپہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے