جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
کلام: جواد شیخ
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھےہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے
تب کہیں جا کے اپنی مرضی کیپہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھےہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے
تب کہیں جا کے اپنی مرضی کیپہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے
نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہےہماری بات میں برکت کا قحط پڑ گیا ہے
تو پھر یہ رد مناجات کی نحوست کیوںکبھی سنا کہ عبادت کا قحط پڑ گیا ہے؟