9 اشعار

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے

Jo bhi jeene ke silsile kiye the

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے

«جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھےہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے

تب کہیں جا کے اپنی مرضی کیپہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے

کبھی اس کی نگہ میسر تھیکیسے کیسے مشاہدے کیے تھے

عقل کچھ اور کر کے بیٹھ رہیعشق نے اور فیصلے کیے تھے

بات ہم نے سنی ہوئی سنی تھیکام اس نے کیے ہوئے کیے تھے

اسے بھی ایک خط لکھا گیا تھااپنے آگے بھی آئنے کیے تھے

یہاں کچھ بھی نہیں ہے میرے لیےتو نے کیا کیا مبالغے کیے تھے

اول آنے کا شوق تھا لیکنکام سارے ہی دوسرے کیے تھے

بڑی مشکل تھی وہ گھڑی جوادؔہم نے کب ایسے فیصلے کیے تھے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں