گلشن شیرازی کی آواز میں
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے
کلام: کیفی اعظمی · محفل: کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی · 2026-01-14
«کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے
یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے