7 اشعار

کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے

Koi yeh kaise bataye ke woh tanha kyun hai

کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے

«کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے

یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے

اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامنان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن

اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہےدل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی

اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئیآس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے

تم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہکہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ

ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں