4 اشعار

نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے

Nalaan bhi hai jo lab pe liye iltemaas hai

نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہےتیرے دہن کی آج بھی پانی کو پیاس ہے

تطہیر کی مہک سے معطر ہے یہ فضالگتا ہے کربلا ہی یہیں آس پاس ہے

اوروں کو ہوں گی عشرتِ دنیا سے رغبتیںمولا حسین مجھ کو ترا غم ہی راس ہے

سارے امام ہیں مرے جس گل کی پتیاںآنا ہے جس کو وہ بھی اسی گل کی باس ہے

— تنویر دانش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں