6 اشعار

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

Saari khalqat ek taraf thi aur deewane ek taraf

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

«ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف» اختر شمار کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرفتیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف

ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میںدھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف

دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیادل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف

آگے آگے بھاگ رہا ہوں اب وہ میرے پیچھے ہےاک دن تیری چاہ میں کی تھی میں نے دنیا ایک طرف

دوسری جانب اک بادل نے بڑھ کر ڈھانپ لیا تھا چانداور آنکھوں میں ڈوب رہا تھا دل کا ستارا ایک طرف

وقت جواری کی بیٹھک میں جو آیا سو ہار گیااخترؔ اک دن میں بھی دامن جھاڑ کے نکلا ایک طرف

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں