ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے
کلام: اختر شمار
ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہےمگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے
مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کرمری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے
تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار
مہمان شاعر: اختر شمار
ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہےمگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے
مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کرمری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے
ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرفتیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف
ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میںدھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف