8 اشعار

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا

Jis bagh ka pauda hai idhar kyun nahin lagta

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا

«جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 8 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتاوہ زخم مجھے بار دگر کیوں نہیں لگتا

ہم دونوں کی ویرانی بھی شامل ہے تو یہ دشتکیوں دشت نظر آتا ہے گھر کیوں نہیں لگتا

ویسے میں تماشا تو تجھے لگتا ہوں اب بھیاک بار ذرا دیکھ ادھر کیوں نہیں لگتا

کیوں خرچ کیے جاتا ہوں تیری بھی اداسیاب تیرا ضرر اپنا ضرر کیوں نہیں لگتا

یہ ان چھوئے احساس کی ہر پور میں گردشاس طرح ہمیں زندگی بھر کیوں نہیں لگتا

اچھا در تنہائی کھلا رہنے دوں یعنیدیوار سے لگ جاؤں مگر کیوں نہیں لگتا

کیا ہے کہ کبھی پھولوں میں ڈھلتی نہیں کلیاںیہ غم کا شجر ہے تو ثمر کیوں نہیں لگتا

کیوں روح نہیں کانپتی کچھ سوچ کے شارقؔڈرتا ہوں کہ اب ہجر سے ڈر کیوں نہیں لگتا

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں