7 اشعار

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

Jo chiragh saare bujha chuke unhein intezar kahan raha

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

«جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا

جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکیکسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا

یہ طلوع روز ملال ہے سو گلہ بھی کس سے کریں گے ہمکوئی دل ربا کوئی دل شکن کوئی دل فگار کہاں رہا

کوئی بات خواب و خیال کی جو کرو تو وقت کٹے گا ابہمیں موسموں کے مزاج پر کوئی اعتبار کہاں رہا

ہمیں کو بہ کو جو لیے پھری کسی نقش پا کی تلاش تھیکوئی آفتاب تھا ضو فگن سر رہ گزار کہاں رہا

مگر ایک دھن تو لگی رہی نہ یہ دل دکھا نہ گلہ ہواکہ نگہ کو رنگ بہار پر کوئی اختیار کہاں رہا

سر دشت ہی رہا تشنہ لب جسے زندگی کی تلاش تھیجسے زندگی کی تلاش تھی لب جوئبار کہاں رہا

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں