نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے
کلام: وزیر آغا
نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہےبس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے
شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوںزمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہےبس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے
شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوںزمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے