5 اشعار

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے

Na aankhein hi jhapakta hai na koi baat karta hai

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے

«نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہےبس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے

شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوںزمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے

وہ جب چاہے بجھا دیتا ہے شمعیں بھی ستارے بھینگر سارا سپرد پنجۂ ظلمات کرتا ہے

وہ اپنی بات سے صدچاک کرتا ہے مرا سینہپھر اپنی بات کی تا دیر تاویلات کرتا ہے

وہ اپنی عمر کو پہلے پرو لیتا ہے ڈوری میںپھر اس کے بعد گنتی عمر کی دن رات کرتا ہے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں