ایمان کی آواز میں
آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص
کلام: محمد رفیع سودا · محفل: جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا · 2026-02-01
«آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔
آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرصآسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص
ممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمعدن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص