7 اشعار

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

Aaraam phir kahaan hai jo ho dil mein jaae hiras

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

«آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرصآسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص

ممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمعدن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص

انساں نہ ہوں ذلیل زمانے کے ہاتھ سےذلت کسی کو کوئی نہ دیوے سوائے حرص

کر منہ کو ٹک بسوے قناعت یہ حرف مانرہتی ہے لاکھ طرح کی آفت قفائے حرص

ناداں تلاش طرۂ زر سے تو باز آجوں شمع یہ نہ ہو کہ ترا سر کٹائے حرص

اپنے سوا کسی کو نہ پایا حریف حیفکی قطع روزگار نے ہم پر قبائے حرص

سوداؔ بسر ہو خوبی سے اوقات ہر طرحپر درمیاں نہ ہووے بشرطیکہ پائے حرص

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں