ایمان کی آواز میں
اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتے
کلام: عاطف جاوید عاطف · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25
«اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتے» عاطف جاوید عاطف کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔
اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتےنمیدہ پلکوں سے تیری یادوں کے پَل سنورتے تو سبز ہوتے
خزاں تو موقع پرست ٹھہری سو خُشک پتے بچھا رہی ہےبہار جیسے وہ یار رستوں پہ پاؤں دھرتے تو سبز ہوتے