مقرر · میزبان

ایمان

@_imaan_n

248
پیش کردہ کلام
128
محفلوں میں شرکت
ایمان کی آواز میں

اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے

کلام: کشور ناہید · محفل: ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید ) · 2025-12-17

«اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئےیہ بھی نہیں کہ زندہ ہیں یہ بھی نہیں کہ مر گئے

خواب تلک رہائی تھی تیرے فراق و ہجر سےآنکھ کھلی تو آئنے تہہ میں کہیں اتر گئے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر Bah raha hai zamin ke dhare par نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹا Hai Tayaqqun Mein Bhi Ziyan Ulta نصیر احمد ناصر غزل
  3. 03 لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملی Lamhay Shumarne Se Rehai Mujhe Mili نصیر احمد ناصر غزل
  4. 04 تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے Tumhaari chahat ki chandni se har ek shab-e-gham sanwar gai hai ضیاء جالندھری غزل
  5. 05 شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائے Sham-e-haq shoabada-e-harf dikha kar le jae ضیاء جالندھری غزل
  6. 06 صبح سے شام تک Subh se sham tak ضیاء جالندھری نظم
  7. 07 یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں Ye mohabbat ki jawani ka saman hai ki nahin اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  8. 08 ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک Zulm sahte rahe shukr karte rahe aai lab tak na ye dastan aaj tak اختر انصاری اکبر آبادی غزل