دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے
کلام: کشور ناہید
دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلےاس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے
دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتیخواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلےاس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے
دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتیخواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے
گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہازندگی رہ گئی جینے کا مزا کچھ نہ رہا
روشنی تھی تو ہر اک شے کی حقیقت تھی عیاںتیرگی میں مری آنکھوں کے سوا کچھ نہ رہا
اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئےیہ بھی نہیں کہ زندہ ہیں یہ بھی نہیں کہ مر گئے
خواب تلک رہائی تھی تیرے فراق و ہجر سےآنکھ کھلی تو آئنے تہہ میں کہیں اتر گئے