8 اشعار

اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے

Aye rah-e-hijr-e-nau-faroz dekh ke hum theher gaye

اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے

«اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئےیہ بھی نہیں کہ زندہ ہیں یہ بھی نہیں کہ مر گئے

خواب تلک رہائی تھی تیرے فراق و ہجر سےآنکھ کھلی تو آئنے تہہ میں کہیں اتر گئے

تو بھی مری طرح رہا دھیان اٹھائے شہر کاسوئے تو چھاؤں سو گئی قافلے کوچ کر گئے

تجھ کو بہت قریب سے دیکھ کے یوں لگا کہ ابخیمۂ جاں اکھڑ گیا دشت طلب گزر گئے

دل کی گواہی کے لیے رسم دعا بری نہ تھیرنج خمار بے ثمر ڈھونڈنے اس کے گھر گئے

ہم ہی تھے وہ بلا کشاں دار و رسن تھے جن کی جاںہم ہی تھے شب کے ہم سفر ہم ہی نہ اپنے گھر گئے

دل کو ترے فراق کی آرزو یاد رہ گئیدن وہ محبتوں کے بھی مثل رہ سفر گئے

میرے لیے بھی خواب تھے اس نے رکھے ہوئے کہیںشہر میں ان کو ڈھونڈنے قاصد بے ہنر گئے

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں