ایمان کی آواز میں
بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا
کلام: ظفرگورکھپوری · محفل: ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری) · 2025-11-21
«بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔
بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گامیں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا
نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگےمجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا