6 اشعار

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا

Badan kujla gaya to dil ki tabani se niklunga

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا

«بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گامیں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا

نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگےمجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا

تم آنکھوں سے مجھے جاں کے سفر کی مت اجازت دواگر اترا لہو میں پھر نہ آسانی سے نکلوں گا

میں ایسا خوبصورت رنگ ہوں دیوار کا اپنیاگر نکلا تو گھر والوں کی نادانی سے نکلوں گا

ضمیر وقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورتزمانہ کیا سمجھتا ہے کہ آسانی سے نکلوں گا

یہی اک شے ہے جو تنہا کبھی ہونے نہیں دیتیظفرؔ مر جاؤں گا جس دن پریشانی سے نکلوں گا

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں