ایمان کی آواز میں
گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے
کلام: محمد رفیع سودا · محفل: جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا · 2026-02-01
«گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔
گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہےدل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے
نالاں ہوں مدتوں سے ترے سایہ کے تلےپوچھا نہ یہ کبھو پس دیوار کون ہے