5 اشعار

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے

Gar tujh mein hai wafa to jafakar kaun hai

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے

«گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہےدل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے

نالاں ہوں مدتوں سے ترے سایہ کے تلےپوچھا نہ یہ کبھو پس دیوار کون ہے

ہر شب شراب خوار ہر اک دن سیاہ ہےآشفتہ زلف و لٹپٹی دستار کون ہے

ہر آن دیکھتا ہوں میں اپنے صنم کو شیختیرے خدا کا طالب دیدار کون ہے

سوداؔ کو جرم عشق سے کرتے ہیں آج قتلپہچانتا ہے تو یہ گنہ گار کون ہے

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں