مقرر · میزبان

ایمان

@_imaan_n

248
پیش کردہ کلام
128
محفلوں میں شرکت
ایمان کی آواز میں

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04

«غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتاآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیابلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹا Hai Tayaqqun Mein Bhi Ziyan Ulta نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملی Lamhay Shumarne Se Rehai Mujhe Mili نصیر احمد ناصر غزل
  3. 03 بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر Bah raha hai zamin ke dhare par نصیر احمد ناصر غزل
  4. 04 تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے Tumhaari chahat ki chandni se har ek shab-e-gham sanwar gai hai ضیاء جالندھری غزل
  5. 05 شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائے Sham-e-haq shoabada-e-harf dikha kar le jae ضیاء جالندھری غزل
  6. 06 صبح سے شام تک Subh se sham tak ضیاء جالندھری نظم
  7. 07 یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں Ye mohabbat ki jawani ka saman hai ki nahin اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  8. 08 ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک Zulm sahte rahe shukr karte rahe aai lab tak na ye dastan aaj tak اختر انصاری اکبر آبادی غزل