6 اشعار

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

Ghamza nahin hota ke ishaara nahin hota

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

«غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتاآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیابلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

اللہ بچائے مرض عشق سے دل کوسنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سےہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کالیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدناموہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں