ایمان کی آواز میں
ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں
کلام: مظفر وارثی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12
«ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔
ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوںجُرم قانوُن کرے، اور سزا میں کاٹُوں
دُودھ کی نہر ، شہنشاہ محل میں لے جائے !تیشۂ خُوں سے پہاڑوں کا گَلا میں کاٹُوں