نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں
کلام: کیف احمد صدیقی
نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوںپڑھنا نہ تھا تمہیں اگر درجے میں پڑھنے آئے کیوں
کیونکر ہم امتحان دیں سوئیں گے جا کے باغ میںپڑھنے کو آدھی رات تک کوئی ہمیں جگائے کیوں