7 اشعار

ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں

Haath insaaf ke choron ka bhi kya main kaatoon

ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں

«ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوںجُرم قانوُن کرے، اور سزا میں کاٹُوں

دُودھ کی نہر ، شہنشاہ محل میں لے جائے !تیشۂ خُوں سے پہاڑوں کا گَلا میں کاٹُوں

تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار، مِرے پاس قَلَمبول! سر ظُلم کا ، تُو کاٹے گا یا میں کاٹُوں

اب تو بندے بھی، خُدا بندوں کی تقدِیر لکھیںدے وہ طاقت مجھے، اُن سب کا لِکھا میں کاٹُوں

پاؤں ہوتے ہوئے ، کب تک چلوں بیساکھیوں پرکب تلک، دوسروں کا بویا ہُوا ، میں کاٹُوں

کُھلے ماحول پہ وہ حَبس کو معموُر کرےسانس کی دھار سے زنجیرِ ہَوا، میں کاٹُوں

چھاؤں تو ، اُس کو مظفؔر نہیں اچھّی لگتی !کہتا مجھ سے ہے کہ، یہ پیڑ گھنا میں کاٹُوں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں