مقرر · میزبان

ایمان

@_imaan_n

248
پیش کردہ کلام
128
محفلوں میں شرکت
ایمان کی آواز میں

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے

کلام: اختر شمار · محفل: تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار · 2026-04-17

«حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے» اختر شمار کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئےیہ دل ملول تھا آزار سے نکلتے ہوئے

بڑی ہی دیر تلک دھوپ مجھ کو چھو نہ سکیتمہارے سایۂ دیوار سے نکلتے ہوئے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹا Hai Tayaqqun Mein Bhi Ziyan Ulta نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملی Lamhay Shumarne Se Rehai Mujhe Mili نصیر احمد ناصر غزل
  3. 03 بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر Bah raha hai zamin ke dhare par نصیر احمد ناصر غزل
  4. 04 تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے Tumhaari chahat ki chandni se har ek shab-e-gham sanwar gai hai ضیاء جالندھری غزل
  5. 05 شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائے Sham-e-haq shoabada-e-harf dikha kar le jae ضیاء جالندھری غزل
  6. 06 صبح سے شام تک Subh se sham tak ضیاء جالندھری نظم
  7. 07 یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں Ye mohabbat ki jawani ka saman hai ki nahin اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  8. 08 ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک Zulm sahte rahe shukr karte rahe aai lab tak na ye dastan aaj tak اختر انصاری اکبر آبادی غزل