ایمان کی آواز میں
ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو
کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04
«ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔
ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہوجان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو
دل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجودکوئی مرکز ہو کوئی قبلۂ حاجات تو ہو