8 اشعار

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو

Hoon main parwana magar shama' to ho raat to ho

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو

«ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہوجان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو

دل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجودکوئی مرکز ہو کوئی قبلۂ حاجات تو ہو

دل تو بے چین ہے اظہار ارادت کے لیےکسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو

دل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیںباطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو

گفتنی ہے دل پر درد کا قصہ لیکنکس سے کہیے کوئی مستفسر حالات تو ہو

داستان غم دل کون کہے کون سنےبزم میں موقع اظہار خیالات تو ہو

وعدے بھی یاد دلاتے ہیں گلے بھی ہیں بہتوہ دکھائی بھی تو دیں ان سے ملاقات تو ہو

کوئی واعظ نہیں فطرت سے بلاغت میں سوامگر انسان میں کچھ فہم اشارات تو ہو

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں