ایمان کی آواز میں
ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔
ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی باتکون بیکار یہاں ہے کہ سنے کام کی بات
شمع کی طرح کھڑاسوچ رہاہے شاعرصبح کی بات سنائے کہ کہے شام کی بات