8 اشعار

ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات

Hum ne be-faeda chheṛi gham-e-ayyam ki baat

ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات

«ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی باتکون بیکار یہاں ہے کہ سنے کام کی بات

شمع کی طرح کھڑاسوچ رہاہے شاعرصبح کی بات سنائے کہ کہے شام کی بات

ہم غریبوں کو توعادت ہے جفاسہنے کیڈھونڈہی لیتے ہیں تکلیف میں آرام کی بات

دھوپ میں خاک اڑالیتے ہیں سائے کیلئےپیاس لگتی ہے تو کرتے ہیں مئے وجام کی بات

اب توہرسمت اندھیراہی نظرآتاہےخوب پھیلی ہے تری زلف سیہ فام کی بات

صبح کے وقت جو کلیوں نے چٹک کرکہدیبات چھوٹی سی ہے لیکن ہے بڑے کام کی بات

کوئی کہدے کہ محبت میں برائی کیاہےیہ نہ توکفر کی ہے بات نہ اسلام کی بات

گرچہ احباب نے سرجوڑ کے ڈھونڈاعاجزنہ ملی میری غزل میں روشِ عام کی بات

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں