ایمان کی آواز میں
کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے
کلام: آرزو لکھنوی · محفل: پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی · 2026-01-06
«کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہےجہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہے
تمہارا وعدہ ہے کیسا وعدہ کہ جس کا دل کو یقیں نہیں ہےنگین بے نقش تو ہزاروں یہ نقش ہے اور نگیں نہیں ہے