معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانےدل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے
کہہ جاتی ہے کیا وہ چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہیںکچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانےدل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے
کہہ جاتی ہے کیا وہ چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہیںکچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے
کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہےجہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہے
تمہارا وعدہ ہے کیسا وعدہ کہ جس کا دل کو یقیں نہیں ہےنگین بے نقش تو ہزاروں یہ نقش ہے اور نگیں نہیں ہے
پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑاخندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا
دیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئیبیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا