ایمان کی آواز میں
نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں
کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12
«نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔
نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوںپڑھنا نہ تھا تمہیں اگر درجے میں پڑھنے آئے کیوں
کیونکر ہم امتحان دیں سوئیں گے جا کے باغ میںپڑھنے کو آدھی رات تک کوئی ہمیں جگائے کیوں