8 اشعار

نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں

Naam likha liya to phir karte ho haaye haaye kyon

نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں

«نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوںپڑھنا نہ تھا تمہیں اگر درجے میں پڑھنے آئے کیوں

کیونکر ہم امتحان دیں سوئیں گے جا کے باغ میںپڑھنے کو آدھی رات تک کوئی ہمیں جگائے کیوں

بیٹھے ہیں اپنی سیٹ پر کیسے بھگائیں ماسٹرآئے ہیں دے کے فیس ہم کوئی ہمیں بھگائے کیوں

چیخیں گے خوب ہم یہاں چاہے خفا ہوں میہماںنفرت ہو جس کو شور سے گھر میں ہمارے آئے کیوں

کوئی پڑوسی تنگ ہو چاہے کسی سے جنگ ہوگھر ہے یہ اپنے باپ کا کوئی ہمیں چپائے کیوں

کانا خدا نے کر دیا اس میں ہے اپنی کیا خطاگالی بکیں گے خوب ہم کوئی ہمیں چڑائے کیوں

دیکھو تو پیٹ بن گیا آخر غبارہ گیس کاکھاتے ہو اتنا گوشت کیوں پیتے ہو اتنی چائے کیوں

ساتھی ہوں یا اساتذہ آئے کسی کو کیا مزہدرجے میں کوئی بے محل کیفؔ کی غزلیں گائے کیوں

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں