ایمان کی آواز میں
رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال
کلام: عرش صدیقی · محفل: اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی · 2026-01-21
«رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔
میں سفر میں ہوں لئے کاندھوں پہ اپنی رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سالسانس جب تک ساتھ ہے میں خواہشوں کا جگمگاتا ہاتھ تھامے
تیری ہم راہی میں ہوںخواہشیں ایک شامیانہ ہیں لرزتی آخری ہچکی کے اور کچھ مانگتی پہلی صدا کے درمیاں