14 اشعار

رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

Rā.egāñ āzādiyoñ ke be-samar unchās sāl

رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

«رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

میں سفر میں ہوں لئے کاندھوں پہ اپنی رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سالسانس جب تک ساتھ ہے میں خواہشوں کا جگمگاتا ہاتھ تھامے

تیری ہم راہی میں ہوںخواہشیں ایک شامیانہ ہیں لرزتی آخری ہچکی کے اور کچھ مانگتی پہلی صدا کے درمیاں

جس کے سائے میں گزرتے وقت کے وقت کے چلتے ہوئے لمحوں کو ملتا ہے سکوںہے انہی جلتے ہوئے لمحوں کی جگ مگ میں مری پہچان گم

لمحے چلتے ہیں گزرتا وقت اندھا ہے مگراور گزرتے وقت کی پہچان دیتا ہے تو مستقبل کا وہ نقش گریزاں ہفت رنگ

جو افق تک جائے مے راستے سے اب بھی برسوں دور ہےمیں سفر میں ہوں لئے کاندھوں پہ اپنی رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

ڈھونڈھتا ہوں آنے والے وقت میں اس ایک لمحے کو جو سچ کہنے کی جرأت دے مجھےتاکہ مر جانے سے پہلے ایک بار

میں بھی اشیاء کو پکاروں ان کے اپنے نام سےاس لئے کہ ہر کتاب آسمانی میں لکھا ہے سچ کہو

اور یہی خواہش ہے جو اب تک سراب خواب ہےلیکن ایسا خواب دیکھا کس نے جو تعبیر کی حد میں نہ ہو

میں کہ اب بھی خواہشوں کا ہاتھ تھامےتیری ہم راہی میں ہوں

میں نے اب تک کیسے کیسے نام دے کر تجھ کو دیکھا ہے خود اپنے رنگ میںچاہتا ہوں اب کبھی تجھ کو پکاروں تیرے اپنے نام سے

اس لئے میں ہر نئے امکاں کی سرحد تک چلوں گا تیرے ہاتھراہ کی دیوار کیوں میرے لئے ہوں رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

اس لئے کہ سانس چلتی ہے تو ہر منزل مری بانہوں میں ہےاس لئے کہ خواہشیں تو وقت کی مانند ہیں بے سن و سال

اس لئے کہ وقت کب بوڑھا ہوا بوڑھے تو ہوتے ہیں درختمیں کہ اب بھی خواہشوں کا ہاتھ تھامے تیری ہم راہی میں ہوں

ہر نئے امکاں کی سرحد تک چلوں گا تیرے ساتھ

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں