ریکارڈ شدہ ایکس سپیس 21 جنوری 2026

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

مہمان شاعر: عرش صدیقی

17
سپیکرز
290
سامعین

سپیکرز

کسی سپیکر کو منتخب کریں — ان کا پیش کردہ کلام نیچے

ایمان کا پیش کردہ کلام

باز گشت

کلام: عرش صدیقی

میں تیری بستی سے بھاگ کر دور اک خرابے میں آ گیا ہوںیہ وہ خرابہ ہے جس میں ہستی کی روشنی کا گزر نہیں ہے

یہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہےیہاں ہے وہ عالم خموشی کہ دل کی دھڑکن بھی بے صدا ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

میں سفر میں ہوں لئے کاندھوں پہ اپنی رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سالسانس جب تک ساتھ ہے میں خواہشوں کا جگمگاتا ہاتھ تھامے

تیری ہم راہی میں ہوںخواہشیں ایک شامیانہ ہیں لرزتی آخری ہچکی کے اور کچھ مانگتی پہلی صدا کے درمیاں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مجھے اس سے تعلق تھا تو بس اتناکہ میری چند سانسیں کھو گئی تھیں اس کی بستی میں

مگر میں نے اسے اپنی محبت کا امیں جانانہ اس نے ہی کبھی گلیوں میں چھپ چھپ کر مجھے دیکھا

مکمل کلام پڑھیں ‹