باز گشت
میں تیری بستی سے بھاگ کر دور اک خرابے میں آ گیا ہوںیہ وہ خرابہ ہے جس میں ہستی کی روشنی کا گزر نہیں ہے
یہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہےیہاں ہے وہ عالم خموشی کہ دل کی دھڑکن بھی بے صدا ہے
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
میں تیری بستی سے بھاگ کر دور اک خرابے میں آ گیا ہوںیہ وہ خرابہ ہے جس میں ہستی کی روشنی کا گزر نہیں ہے
یہاں نہ تو ہے نہ رنگ و بو ہے نہ زندگی ہےیہاں ہے وہ عالم خموشی کہ دل کی دھڑکن بھی بے صدا ہے
میں سفر میں ہوں لئے کاندھوں پہ اپنی رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سالسانس جب تک ساتھ ہے میں خواہشوں کا جگمگاتا ہاتھ تھامے
تیری ہم راہی میں ہوںخواہشیں ایک شامیانہ ہیں لرزتی آخری ہچکی کے اور کچھ مانگتی پہلی صدا کے درمیاں
مجھے اس سے تعلق تھا تو بس اتناکہ میری چند سانسیں کھو گئی تھیں اس کی بستی میں
مگر میں نے اسے اپنی محبت کا امیں جانانہ اس نے ہی کبھی گلیوں میں چھپ چھپ کر مجھے دیکھا
جستجو میں تیری پھرتا ہوں نجانے کب سے؟آبلہ پا ہیں مرے ساتھ زمانے- کب سے!
میں کہ قسمت کی لکیریں بھی پڑھا کرتا تھاکوئی آیا ہی نہیں ہاتھ دکھانے کب سے