ایمان کی آواز میں
تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں
کلام: باقی صدیقی · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25
«تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔
تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیںہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں
جب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیںہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں