8 اشعار

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں

Tare dard ke jhonke ban kar aate hain

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں

«تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیںہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں

جب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیںہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں

وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہےہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں

کیا ذروں کا جوش صبا نے چھین لیاگلشن میں کیوں یاد بگولے آتے ہیں

دنیا نے ہر بات میں کیا کیا رنگ بھرےہم سادہ اوراق الٹتے جاتے ہیں

دل ناداں ہے شاید راہ پہ آ جائےتم بھی سمجھاؤ ہم بھی سمجھاتے ہیں

تم بھی الٹی الٹی باتیں پوچھتے ہوہم بھی کیسی کیسی قسمیں کھاتے ہیں

بیٹھ کے روئیں کس کو فرصت ہے باقیؔبھولے بسرے قصے یاد تو آتے ہیں

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں